نقاب پوش عاشق


 بسم اللہ الرحمن الرحیم
 یہ حکایت مولانا روم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی کتاب حکایات رومی سے لی گئی ہے 
یہ نقاب پوش بزرگ کسی خطہ عرب کے بادشاہ تھے پہلے بڑے شاعر اور عشق مجازی میں مبتلا تھے حکومت اور ملک کے حریص نازک، طبع اور صاحب جمال تھے۔عشقِ حقیقی کی طرف ان کی رغبت ہونے لگی اس کیف و مستی کا ان کے دل پر بڑا  اثر ہوا۔ سلطنت تلخ محسوس ہونے لگی ۔بالآخر عشقِ حقیقی نے اس بادشاہ کو تخت و تاج سے بے نیاز کرکے آدھی رات کو جنگل کا راستہ اختیارکر نے پر مجبور کردیا کوہ و دریا، دشت و دمن سے دیوانہ وار گزرتا ہوا وہ بادشاہ اپنی حدودِ سلطنت سے نکل کر سرحدِ تبوک میں داخل ہو گیا۔چہرہ پر نقاب ڈال لیا تاکہ جلالت ِشاہانہ سے لوگ نہ سمجھ لیں کہ یہ گدڑی پوش کس ملک کا رئیس یا بادشاہ ہے۔ملکِ تبوک میں اس بادشاہ پر جب کئی فاقے گزر گئے تو ضعف و نقاہت سے مجبور ہو کر مزدوروں کے ساتھ اینٹیں بنانے لگا۔ اگرچہ وہ بادشاہ چہرے پر نقاب کئے ہوئے تھا لیکن اس کے رنگ وڈھنگ سے مزدوروں میں تذکرہ ہونے لگا کہ یہ نقاب پوش کسی ملک کا سفیر یا بادشاہ معلوم ہوتا ہے ۔یہ خبر شاہِ تبوک تک پہنچ گئی۔ شاہِ تبوک کو فکر لاحق ہو گئی کہ یہ ماجرا کیا ہے؟شاہِ تبوک نے فورا سامانِ سفر باندھا اور اس مزدور بادشاہ کی جھونپڑی میں جا پہنچا اور دریافت کرنے لگا زاہد جمال آپ اپنے صحیح حال سے مجھے آگاہ کریں۔ آپ کا یہ روشن چہرہ شہادت دیتا ہے کہ آپ کسی ملک کے بادشاہ ہیں۔یہ فقر و مسکنت کا سبب کیا ہے؟ آپ نے اپنی راحت اور سلطانیت کو فقر کی ذلت پر قربان کیا۔اے عالی حوصلہ! آپ کی ہمت پر میری یہ سلطنت تبوک ہی نہیں بلکہ سدہا سلطنتیں قربان ہوں۔ مجھے جلد اپنے راز سے آگاہ کریں۔ اگر آپ میرے پاس مہمان رہے تو میری خوش نصیبی ہوگی  اور آپ کے قرب سے میری جان بوجہ خوشی سو جان کے برابر ہوجائے گی ۔اس طرح بہت سی ترکیبوں سے شاہ تبوک اس لباس فقر میں ملبوس بادشاہ سے دیر تک باتیں کرتا رہا تاکہ اس کا راز منکشف ہوجائے راز و نیاز کی گفتگو کی بجائے اس نقاب پوش بادشاہ نے سیاہ تبوک کے کان میں درد و عشق کی نہ جانے کیا بات کہہ دی کہ شاہِ تبوک نے اپنا گریبان چاک کر دیا شاہانہ جاہ و جلال کا ہوش نہ رہا ۔ آدھی رات کا وقت ہوا۔۔ دونوں بادشاہ اس ملک سے نکل کر مالک الملک کی طرف کسی اور علاقے میں چل دیے۔۔ تا کہ خلقت پریشان نہ کرے اور فراغِ قلب سے محبوب حقیقی کی یاد میں مشغولی نصیب ہو ۔۔اس نقاب پوش عاشق صادق کی بات میں نہ جانے کیا لذت تھی کہ شاہِ تبوک پر سلطنت کی تمام لذتیں حرام ہوگی۔۔سارے عیش  اس لذت کے سامنے ہیچ ہو گئے  اور دل میں عشق الہی  کا ایک دریا موجزن ہو گیا۔۔  شاہِ تبوک نے اسی وقت اپنے سینے میں تعلق باللہ کی دولت محسوس کی۔۔ 
جزاک اللہ کہ چشم باز کر دی
مرا با جانِ جاں ہمراز کر دی
 خدا آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ آپ نے ہماری آنکھیں کھول دیں اور محبوب حقیقی سے ہمراز کردیا ۔۔اس نقاب پوش صاحبِ نسبت بادشاہ سے عرض کیا کہ ہمیں بھی اپنے ہمراہ لے چلیں آپ کا قلبی سرچشمہ آتش عشق ہے۔۔اس عشق کی آگ سے میراث سینہ بھر دیجئے۔۔ سلطنت ترک کرکے آپ کا مزدوروں کے  ساتھ اینٹیں بنانا اور لباسِ فقر میں خستہ حال ہونا  اس بات کی دلیل ہے کہ آپ باطن میں کوئی دوسری سلطنت دے چکے ہیں جس کے سامنے ہفت اقلیم کی سلطنت بھی گرد ہے۔۔
 مولانا رومی فرماتے ہیں صرف ان دونوں بادشاہوں کو ہی نہیں بلکہ اور بھی بے شمار بادشاہوں کو عشق نے ان کو خاندان اور ملک  سے جدا کردیا جب عشقِ خونی کمان پرچلہ چڑھا لیتا ہے تو لاکھوں سر  اس وقت اپنے پیسے کے مول بک جاتے ہیں
 اس حکایت میں جو درس سے ہمارے لئے مولانا روم نیو بیان کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ
ٌ جب حق سے آشنائی ہوجائے تو دنیا کی ہر چیز ہیچ نظر آنے لگتی ہےٌ

Share this

Related Posts

Previous
Next Post »

Thanks for your feedback.